پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم از امجد اسلام امجد

پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
دونوں ہی کو امجد ہم نے بچتے دیکھا کم

تاریکی کے ہاتھ پہ بیعت کرنے والوں کا
سُورج کی بس ایک کِرن سے گھُٹ جاتا ہے دَم

!رنگوں کو کلیوں میں جینا کون سکھاتا ہے
!شبنم کیسے رُکنا سیکھی! تِتلی کیسے رَم

آنکھوں میں یہ پَلنے والے خواب نہ بجھنے پائیں
دل کے چاند چراغ کی دیکھو‘ لَو نہ ہو مدّھم

ہنس پڑتا ہے بہت زیادہ غم میں بھی انساں
بہت خوشی سے بھی تو آنکھیں ہو جاتی ہیں نم
از امجد اسلام امجد

Please Share On

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp

مزید پڑھیے

Famous Urdu Poets

allama-iqbal

علامہ اقبال

Mirza Ghalib

مرزا غالب

Amjad Islam Amjad

امجد اسلام امجد

Ali Zaryoun

علی زریون

parveen shakir

پروین شاکر

Wasi_Shah

وصی شاہ

faiz ahmad faiz

امجد اسلام امجد

Leave a Comment