پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم از امجد اسلام امجد

پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
دونوں ہی کو امجد ہم نے بچتے دیکھا کم

تاریکی کے ہاتھ پہ بیعت کرنے والوں کا
سُورج کی بس ایک کِرن سے گھُٹ جاتا ہے دَم

!رنگوں کو کلیوں میں جینا کون سکھاتا ہے
!شبنم کیسے رُکنا سیکھی! تِتلی کیسے رَم

آنکھوں میں یہ پَلنے والے خواب نہ بجھنے پائیں
دل کے چاند چراغ کی دیکھو‘ لَو نہ ہو مدّھم

ہنس پڑتا ہے بہت زیادہ غم میں بھی انساں
بہت خوشی سے بھی تو آنکھیں ہو جاتی ہیں نم
از امجد اسلام امجد

Please Share On

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp

مزید پڑھیے

Famous Urdu Poets

allama-iqbal

1 thought on “پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم از امجد اسلام امجد”

  1. اِک بُت مُجھے بھی گوشئہ دل میں پڑا مِلا
    واعظ کو وھم ھے کہ اُسی کو خُدا مِلا

    حیرت ھے، اس نے اپنی پرستش ھی کیوں نہ کی
    جب آدمی کو پہلے پہل آئینہ مِلا

    خورشیدِ زندگی کی تمازت غضب کی تھی
    تو راہ میں مِلا تو شجر کا مزہ مِلا

    مُجھ سے بچھڑ کے، یوسفِ بے کارواں ھے تو
    مُجھ کو تو، خیر، درد مِلا، تُجھ کو کیا مِلا

    دن بھر جلائیں مَیں نے اُمیدوں کی مشعلیں
    جب رات آئی، گھر کا دِیا تک بُجھا مِلا

    محکوم ھو کچھ ایسا کہ آزاد سا لگے
    انساں کو دَورِ نَو میں یہ منصب نیا مِلا

    ماضی سے مُجھ کو یوُں تو عقیدت رھی، مگر
    اس راستے میں جو بھی نگر تھا، لُٹا مِلا

    دشتِ فراق میں وہ بصیرت مِلی، ندیمؔ
    جو مُجھ سے چھن گیا تھا، وھی جا بجا مِل

    Nice Poetry Bro, I like Your All Posts, Always Like Urdu Poetry.

    Reply

Leave a Comment