اب کے سفر ہی اور تھا‘ اور ہی کچھ سراب تھے

اب کے سفر ہی اور تھا‘ اور ہی کچھ سراب تھے
دشتِ طلب میں جا بجا‘ سنگِ گراں خواب تھے

حشر کے دن کا غلغلہ‘ شہر کے بام و دَر میں تھا
نگلے ہوئے سوال تھے‘ اُگلے ہوئے جواب تھے

اب کے برس بہار کی‘ رُت بھی تھی اِنتظار کی
لہجوں میں سیلِ درد تھا‘ آنکھوں میں اضطراب تھے

خوابوں کے چاند ڈھل گئے تاروں کے دم نکل گئے
پھولوں کے ہاتھ جل گئے‘ کیسے یہ آفتاب تھے

سیل کی رہگزر ہوئے‘ ہونٹ نہ پھر بھی تر ہوئے
کیسی عجیب پیاس تھی‘ کیسے عجب سحاب تھے

عمر اسی تضاد میں‘ رزقِ غبار ہو گئی
جسم تھا اور عذاب تھے‘ آنکھیں تھیں اور خواب تھے

صبح ہوئی تو شہر کے‘ شور میں یوں بِکھر گئے
جیسے وہ آدمی نہ تھے‘ نقش و نگارِ آب تھے

آنکھوں میں خون بھر گئے‘ رستوں میں ہی بِکھر گئے
آنے سے قبل مر گئے‘ ایسے بھی انقلاب تھے

ساتھ وہ ایک رات کا‘ چشم زدن کی بات تھا
پھر نہ وہ التفات تھا‘ پھر نہ وہ اجتناب تھے

ربط کی بات اور ہے‘ ضبط کی بات اور ہے
یہ جو فشارِ خاک ہے‘ اِس میں کبھی گلاب تھے

اَبر برس کے کھُل گئے‘ جی کے غبار دُھل گئے
آنکھ میںرُونما ہوئے‘ شہر جو زیرِ آب تھے

درد کی رہگزار میں‘ چلتے تو کِس خمار میں
چشم کہ بے نگاہ تھی‘ ہونٹ کہ بے خطاب تھے

Please Share

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp

مزید پڑھیے

Famous Urdu Poets

allama-iqbal

علامہ اقبال

Mirza Ghalib

مرزا غالب

Amjad Islam Amjad

امجد اسلام امجد

Ali Zaryoun

علی زریون

parveen shakir

پروین شاکر

Wasi_Shah

وصی شاہ

faiz ahmad faiz

امجد اسلام امجد

1 thought on “اب کے سفر ہی اور تھا‘ اور ہی کچھ سراب تھے”

Leave a Comment